hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 960

.

الطحاوي

960
Al Tahawi
۹۶۰ : حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ ڑالنُّفَیْلِیُّ، قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ إِسْحَاقَ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ یَزِیْدَ، یَقُوْلُ : صَحِبْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ حَجَّۃٍ، فَکَانَ یُؤَخِّرُ الظُّہْرَ، وَیُعَجِّلُ الْعَصْرَ، وَیُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَیُعَجِّلُ الْعِشَائَ، وَیُسْفِرُ بِصَلَاۃِ الْغَدَاۃِ .وَجَمِیْعُ مَا ذَہَبْنَا إِلَیْہِ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ، مِنْ کَیْفِیَّۃِ الْجَمْعِ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ، قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ، وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٩٦٠: عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود (رض) کے ساتھ حج کیا وہ ظہر کو مؤخر کرتے اور عصر کو جلدی پڑھتے اسی طرح مغرب کو مؤخر اور عشاء کو جلدی ادا کرتے اور فجر کی نماز اسفار میں ادا فرماتے تھے۔
جمع بین الصلاتین میں جمع صوری کا جو قول دلائل سے ثابت کیا ہے یہی امام ابوحنیفہ (رح) ابو یوسف (رح) و محمد (رح) کا مسلک ہے۔
` بَابُ الصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی أَیُّ الصَّلَوَاتِ ؟ `
درمیانی نماز کون سی ہے ؟
اس کے متعلق کئی اقوال ہیں : ! ظہر ‘" جمعہ ‘ #نماز مغرب ‘ $عشائ ‘ %فجر ‘ & نماز عصر یہ آخری قول امام احمد ‘ امام ابوحنیفہ (رح) اور جمہور فقہاء (رح) کا ہے۔ اور سب سے پہلا قول حضرت زید بن ثابت ‘ اسامہ بن زید ‘ عبداللہ بن عمر (رض) اور دیگر صحابہ وتابعین کا ہے۔ دوسرا قول حسن بصری (رح) اور تیسرا ابن عباس (رض) کی طرف منسوب ہے امام شافعی ومالک نماز فجر کو وسطیٰ کہتے ہیں۔ من شاء التفصیل فلیراجع الشروح المطولات