hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 968

.

الطحاوي

968
Al Tahawi
۹۶۸ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یُوْنُسَ، قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِی الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ، (عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ لِقَوْمٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الْجُمُعَۃِ لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلٰی قَوْمٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الْجُمُعَۃِ فِیْ بُیُوْتِہِمْ) .فَھٰذَا ابْنُ مَسْعُوْدٍ یُخْبِرُ أَنَّ قَوْلَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذٰلِکَ إِنَّمَا کَانَ لِلْمُتَخَلِّفِیْنَ عَنِ الْجُمُعَۃِ فِیْ بُیُوْتِہِمْ .وَلَمْ یَسْتَدِلَّ ہُوَ بِذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ الْجُمُعَۃَ ہِیَ الصَّلَاۃُ الْوُسْطٰی، بَلْ قَالَ بِضِدِّ ذٰلِکَ وَأَنَّہَا الْعَصْرُ وَسَنَأْتِیْ بِذٰلِکَ فِیْ مَوْضِعِہٖ إِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَقَدْ وَافَقَ ابْنَ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلٰی مَا قَالَ مِنْ ذٰلِکَ غَیْرُہٗ مِنَ التَّابِعِیْنَ.
٩٦٨: ابوالاحوص نے عبداللہ سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں سے فرمایا جو جمعہ سے غفلت کرتے تھے میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میں کسی آدمی کو کہوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر جمعہ سے پیچھے رہنے والے لوگوں کے گھروں کو جلا ڈالوں۔ یہ حضرت ابن مسعود (رض) ہیں جو یہ بتلا رہے ہیں کہ آپ کا یہ ارشاد گرامی جمعہ میں تاخیر کرنے والوں سے متعلق ہے اور انھوں نے جمعہ کے نماز وسطیٰ ہونے پر اس سے استدلال نہیں کیا بلکہ اس کے بالمقابل انھوں نے عصر کو صلوٰۃ وسطیٰ قرار دیا۔ عنقریب یہ اپنے مقام پر اس کو ذکر کریں گے ان شاء اللہ اور تابعین کی ایک بڑی جماعت نے حضرت ابن مسعود (رض) کی موافقت میں یہ بات کہی ہے۔ اقوال ملاحظہ ہوں۔
تخریج : مسلم فی المساجد مواضع الصلاۃ ٢٥٤۔
اس روایت میں ابن مسعود (رض) نے اس وعید کو جمعہ سے متعلق قرار دیا جب وعیدی کلمات ظہر کے علاوہ سے متعلق ہوگئے تو وعید کی وجہ سے ظہر کو صلوۃ وسطیٰ ثابت کرنے والا استدلال درست نہ رہا۔