۹۶۹ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ، قَالَ : ثَنَا عَفَّانُ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالَ زَعَمَ حُمَیْدٌ وَغَیْرُہٗ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : کَانَتِ الصَّلَاۃُ الَّتِیْ أَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُحَرِّقَ عَلٰی أَہْلِہَا، صَلَاۃَ الْجُمُعَۃِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ خِلَافُ ذٰلِکَ أَیْضًا .
٩٦٩: تابعین کے اقوال میں بھی اس کی تائید موجود ہے حماد بن سلمہ کہتے ہیں حمید وغیرہ کا خیال ہے کہ حسن بصری (رح) نے فرمایا کہ جس نماز کے متعلق گھروں کو جلانے کی بات فرمائی وہ نماز جمعہ ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ اس دھمکی کا تعلق نماز فجر و عشاء سے ہے روایت ملاحظہ ہو۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلاۃ ٢؍١٩١۔
پس ظہر کے متعلق دھمکی کو سامنے رکھ کر صلوۃ وسطیٰ قرار دینا درست نہ رہا کیونکہ دھمکی کا تعلق جمعہ سے ثابت ہوگیا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ اس دھمکی کا تعلق نماز فجر و عشاء سے ہے روایت ملاحظہ ہو۔