۹۷۰ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلٰی قَالَ أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا بِحَطَبٍ فَیَحْطِبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاۃِ فَیُؤَذَّنَ لَہَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَیَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَی رِجَالٍ، فَأُحَرِّقَ عَلَیْہِمْ بُیُوْتَہُمْ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْ یَعْلَمُ أَحَدُہُمْ أَنَّہٗ یَجِدُ عَظْمًا سَمِیْنًا، أَوْ مِرْمَاتَیْنِ حَسَنَتَیْنِ لَشَہِدَ الْعِشَائَ) .
٩٧٠: اعرج نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں نے پکا ارادہ کرلیا کہ میں ایک آدمی کو لکڑیاں لانے کا حکم دوں وہ لکڑیاں لائے پھر میں نماز کا حکم دوں پس اذان کہی جائے پھر میں اپنی جگہ ایک شخص کو امامت کے لیے کہوں پھر ان لوگوں کے پاس جاؤں اور ان کو گھروں سمیت جلا دوں اس اللہ کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر کسی کو معلوم ہو کہ اس کو موٹی ہڈی (پرگوشت) مل جائے گی یا بکرے کے دو اچھے پائے مل جائیں گے تو وہ ضرور عشاء میں حاضر ہوتا۔
تخریج : بخاری فی الاحکام باب ٥٢‘ الاذان باب ٢٩‘ ترمذی فی الصلاۃ باب ٤٨‘ نمبر ٢١٧‘ نسائی فی الامامہ باب ٤٩‘ دارمی فی الصلاۃ باب ٥٤‘ مالک فی الجماعہ نمبر ٣‘ مسند احمد ٢؍٤٧٢۔