hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 995

.

الطحاوي

995
Al Tahawi
۹۹۵ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ : ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِیْ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ أُمِّہٖ أُمِّ حُمَیْدٍ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، سَأَلَتْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا عَنْ قَوْلِ اللّٰہِ - عَزَّ وَجَلَّ - (وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی) فَقَالَتْ کُنَّا نَقْرَؤُہَا عَلَی الْحَرْفِ الْأَوَّلِ، عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ) .قَالُوْا فَلَمَّا قَالَ اللّٰہُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ) ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ الْوُسْطٰی غَیْرُ الْعَصْرِ .وَلَیْسَ فِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ عِنْدَنَا عَلٰی مَا ذَکَرُوْا لِأَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ الْعَصْرُ مُسَمَّاۃً بِالْعَصْرِ، وَمُسَمَّاۃً بِالْوُسْطٰی فَذَکَرَہَا ہَاہُنَا بِاسْمَیْہِمَا جَمِیْعًا .ھٰذَا یَجُوْزُ لَوْ ثَبَتَ مَا فِی تِلْکَ الْآثَارِ مِنَ التِّلَاوَۃِ الزَّائِدَۃِ عَلَی التِّلَاوَۃِ الَّتِیْ قَامَتْ بِہَا الْحُجَّۃُ، مَعَ أَنَّ التِّلَاوَۃَ الَّتِیْ قَامَتْ بِہَا الْحُجَّۃُ، دَافِعَۃٌ لِکُلِّ مَا خَالَفَہَا .وَقَدْ رُوِیَ أَنَّ الَّذِیْ کَانَ فِیْ مُصْحَفِ حَفْصَۃَ مِنْ ذٰلِکَ، غَیْرُ مَا رَوَیْنَا فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ .
٩٩٥: ام حمید بنت عبدالرحمن کہتی ہیں میں نے عائشہ (رض) سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد والصلاۃ الوسطیٰ کے متعلق دریافت کیا تو کہنے لگیں ہم اس کو حرف اول کے مطابق زمانہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اسی طرح پڑھتی تھیں : { حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰیقوَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ } [البقرہ : ٢٣٨] وصلاۃ العصر ۔ علماء نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے وہ فرمایا جو ان روایات میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آیت :{ حافظوا علی الصلوات۔۔۔} میں صلوٰۃ وسطیٰ اور صلوٰۃ عصر کے لفظ ہیں تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس سے نماز عصر مراد نہیں۔ ہمارے نزدیک اس میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ یہ کہنا درست ہے اس نماز کا نام نماز عصر بھی ہے اور نماز وسطیٰ بھی۔ یہاں نام اور لقب دونوں ذکر کردیئے اور یہ اس وقت درست ہے کہ اگر ان آثار میں یہ ثابت ہوجائے کہ تلاوت سے وہ زائد تلاوت مراد ہے جس کے ساتھ دلیل قائم نہیں ہوتی کیونکہ تلاوت جس سے دلیل قائم ہوتی ہے وہ تو ہر مخالفت کی تردید کرنے والی ہے حالانکہ جو مصحف حفصہ میں مذکور ہے وہ ان روایات کے خلاف ہے جن کا ابتداء میں ذکر ہوا۔
تخریج : مسلم فی المساجد موضع الصلاۃ نمبر ٢٠٧‘ عبدالرزاق ١؍٥٧٨‘ المحلی ١؍١٧٨۔
حاصل روایات : کیونکہ ان تمام روایات میں وصلاۃ العصر کے لفظ واو عطف کے ساتھ ہیں معلوم ہوا کہ وہ صلوۃ وسطیٰ کے علاوہ نماز ہے۔
الجواب نمبر ١: یہ عطف مغایرت کے لیے نہیں عطف صفات تو اتحاد کو لازم کرتا ہے تو صلوۃ وسطیٰ کا دوسرا نام صلوۃ العصر ہے۔
نمبر ٢: یہ آثار قراءت مشہورہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے قابل حجت نہیں مصحف حفصہ میں اس اثر کے خلاف پایا جاتا ہے پس اس سے استدلال درست نہ ہوگا وہاں صلوۃ وسطیٰ کے بعد بطور تفسیر وہی صلوۃ العصر کے الفاظ اس اشکال کو رد کرتے ہیں۔
نمبر ٣: قدوری ص ٢٢٣ سے بتلانا چاہتے ہیں کہ حضرت حفصہ (رض) عائشہ (رض) اور ام کلثوم (رض) سے جو روایات اس قراءت کی ثابت ہوئی ہیں حضرت براء بن عازب (رض) سے مروی ہے کہ یہ منسوخ التلاوۃ ہے۔ روایت براء (رض) ملاحظہ ہو۔