hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 996

.

الطحاوي

996
Al Tahawi
۹۹۶ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ، قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ، قَالَ : أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ رَافِعٍ، قَالَ : کَانَ مَکْتُوْبًا فِیْ مُصْحَفِ حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی، وَہِیَ صَلَاۃُ الْعَصْرِ، وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ .فَقَدْ ثَبَتَ بِھٰذَا مَا صَرَفْنَا إِلَیْہِ تَأْوِیْلَ الْآثَارِ الْأُوَلِ مِنْ قَوْلِہٖ : حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ " أَنَّہٗ سَمّٰی صَلَاۃَ الْعَصْرِ بِالْعَصْرِ وَبِالْوُسْطٰی .فَقَدْ ثَبَتَ بِھٰذَا قَوْلُ مَنْ ذَہَبَ إِلٰی أَنَّہَا صَلَاۃُ الْعَصْرِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ فِیْ ذٰلِکَ، مَا یَدُلُّ عَلٰی نَسْخِ مَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ عَنْ حَفْصَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا وَعَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا وَأُمِّ کُلْثُوْمٍ .
٩٩٦ : عمرو بن رافع سے روایت ہے کہ مصحف حفصہ (رض) میں لکھا تھا : حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی، وَہِیَ صَلَاۃُ الْعَصْرِ سے۔ ماقبل روایات میں آیت { حافظوا علی الصلٰوات۔۔۔} کا جو مفہوم ہم نے بیان کیا کہ نماز عصر کو نماز وسطیٰ کہا گیا ہے۔ پس اس سے ان حضرات کی بات ثابت ہوگئی جو نماز وسطیٰ نمازِ عصر کو قرار دیتے ہیں اور حضرت براء بن عازب (رض) سے ایسی روایت آئی ہے جو حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی روایت کی ناسخ معلوم ہوتی ہے۔
ہم نے پہلے آثار کی جو تاویل حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی، وَہِیَ صَلَاۃُ الْعَصْرِ کے سلسلہ میں کی ہے کہ اس آیت میں صلوٰۃ عصر کا نام ہی صلوٰۃ عصر اور صلوٰۃ وسطیٰ رکھا گیا۔ چنانچہ اس سے ان لوگوں کی بات ثابت ہوگئی جو یہ کہتے ہیں کہ یہ صلوٰۃ عصر ہے۔