حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ، لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَكَيْفَ يَصْنَعْنَ النِّسَاءُ بِذُيُولِهِنَّ ؟ قَالَ: يُرْخِينَ شِبْرًا ، فَقَالَتْ: إِذًا تَنْكَشِفُ أَقْدَامُهُنَّ، قَالَ: فَيُرْخِينَهُ ذِرَاعًا لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا ، ام سلمہ نے کہا : عورتیں اپنے دامنوں کا کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا : ایک بالشت لٹکا لیں ، انہوں نے کہا : تب تو ان کے قدم کھل جائیں گے، آپ نے فرمایا : ایک بالشت لٹکائیں ١ ؎ اور اس سے زیادہ نہ لٹکائیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف وانظر ما قبلہ (تحفة الأشراف : ٧٥٢٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کپڑا لٹکانے کے سلسلہ میں مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ حکم ہے ، مردوں کے لیے آدھی پنڈلی تک لٹکانا زیادہ بہتر ہے ، تاہم ٹخنوں تک رکھنے کی اجازت ہے ، لیکن ٹخنوں کا کھلا رکھنا بےحد ضروری ہے ، اس کے برعکس عورتیں نہ صرف ٹخنے بلکہ پاؤں تک چھپائیں گی ، خاص طور پر جب وہ باہر نکلیں تو اس کا خیال رکھیں کہ پاؤں پر کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3580 - 3581) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1731