حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ الْحَسَنِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَحَدَّثَتْهُمْ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ): شَبَّرَ لِفَاطِمَةَ شِبْرًا مِنْ نِطَاقِهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى بَعْضُهُمْ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ رُخْصَةٌ لِلنِّسَاءِ فِي جَرِّ الْإِزَارِ، لِأَنَّهُ يَكُونُ أَسْتَرَ لَهُنَّ.
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فاطمہ کے «نطاق» کے لیے ایک بالشت کا اندازہ لگایا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - بعض لوگوں نے اسے «حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن عن أمه عن أم سلمة» کی سند سے روایت کی ہے، ٢ - اس حدیث میں عورتوں کے لیے تہ بند (چادر) گھسیٹنے کی اجازت ہے، اس لیے کہ یہ ان کے لیے زیادہ ستر پوشی کا باعث ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر سنن ابی داود/ اللباس ٤٠ (٤١١٧-٤١١٨) ، و ق /اللباس ١٣ (٣٥٠٨) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٥٧) (صحیح) (ابوداود اور ابن ماجہ کی مذکورہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں ” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف راوی ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ایک بالشت کے برابر لٹکانے کی اجازت دی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3580) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1732