حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً مُلَبَّدًا وَإِزَارًا غَلِيظًا، فَقَالَتْ: قُبِضَ رُوحُ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فِي هَذَيْنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَحَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوبردہ کہتے ہیں کہ عائشہ (رض) نے ہمارے سامنے ایک اونی چادر اور موٹا تہ بند نکالا اور کہا : رسول اللہ ﷺ کی وفات انہی دونوں کپڑوں میں ہوئی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی اور ابن مسعود (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الخمس ٥ (٣١٠٨) ، واللباس ١٩ (٥٨١٨) ، صحیح مسلم/اللباس ٦ (٢٠٨٠) ، سنن ابی داود/ اللباس ٨ (٤٠٣٦) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ١ (٣٥٥١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٩٣) ، و مسند احمد (٦/٣٢، ١٣١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا کی تھی کہ «اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا» اللہ مجھے مسکین کی زندگی عطا کر اور اسی حالت میں میری وفات ہو ، اللہ نے آپ کی یہ دعا قبول کی چناچہ آپ کی وفات حدیث میں مذکور دو معمولی کپڑوں میں ہوئی ، غور کا مقام ہے کہ آپ زہد کے کس مقام پر فائز تھے ، اور دنیاوی مال و متاع سے کس قدر دور رہتے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3551) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1733