حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَحْمَل رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) فَقَالَ: إِنِّي حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ النَّاقَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سواری کی درخواست کی، آپ نے فرمایا : میں تمہیں سواری کے لیے اونٹنی کا بچہ دوں گا ، اس آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اونٹنی کا بچہ کیا کروں گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بھلا اونٹ کو اونٹنی کے سوا کوئی اور بھی جنتی ہے ؟ ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٩٢ (٤٩٩٨) (تحفة الأشراف : ٦٥٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اونٹ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہے ، ایسے ہی آپ ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا تھا : «لا تدخل الجنة عجوز» یعنی بوڑھیا جنت میں نہیں جائیں گی ، جس کا مطلب یہ تھا کہ جنت میں داخل ہوتے وقت ہر عورت نوجوان ہوگی ، اسی طرح نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان : «إني حاملک علی ولد الناقة» کا بھی حال ہے ، مفہوم یہ ہے کہ اگر کہنے والے کی بات پر غور کرلیا جائے تو پھر سوال کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (4886) ، مختصر الشمائل (203) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1991