حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) قَالَ لَهُ: يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ ، قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: يَعْنِي مَازَحَهُ، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اے دو کان والے ! محمود بن غیلان کہتے ہیں : ابواسامہ نے کہا، یعنی آپ ﷺ نے اس سے مزاح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٩٢ (٥٠٠٢) ، ویأتي في المناقب ٥٦ (برقم : ٣٨٢٨) (تحفة الأشراف : ٩٣٤) ، و مسند احمد (٣/١١٧، ١٢٧، ٢٤٢، ٢٦٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل (200) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1992