حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ مَا يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، نَحْوَهُ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کسی مسلمان کو یہ اس بات کا حق نہیں کہ وہ دو راتیں ایسی حالت میں گزارے کہ وہ کوئی وصیت کرنا چاہتا ہو اور اس کے پاس وصیت تحریری شکل میں موجود نہ ہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث «عن الزهري عن سالم عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی طرح مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٩٧٤ (تحفة الأشراف : ٧٥٤٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : آیت میراث کے نزول سے پہلے وصیت کرنا لازمی اور ضروری تھا ، لیکن اس آیت کے نزول کے بعد ورثاء کے حصے متعین ہوگئے اس لیے ورثاء سے متعلق وصیت کا سلسلہ بند ہوگیا ، البتہ ان کے علاوہ کے لیے تہائی مال میں وصیت کی جاسکتی ہے ، اور یہ وصیت اس حدیث کی روشنی میں تحریری شکل میں موجود رہنی چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2699) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2118