حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ أَبِي أَوْفَى: أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: كَيْفَ كُتِبَتِ الْوَصِيَّةُ وَكَيْفَ أَمَرَ النَّاسَ ؟ قَالَ: أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ.
طلحہ بن مصرف کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ نے وصیت کی تھی ؟ انہوں نے کہا : نہیں ١ ؎ میں نے پوچھا : پھر وصیت کیسے لکھی گئی اور آپ نے لوگوں کو کس چیز کا حکم دیا ؟ ابن ابی اوفی نے کہا : آپ نے کتاب اللہ پر عمل پیرا ہونے کی وصیت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ١ (٢٧١٠) ، والمغازي ٨٣ (٤٤٦٠) ، وفضائل القرآن ١٨ (٥٠٢٢) ، صحیح مسلم/الوصایا ٥ (١٦٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٢ (٣٦٥٠) ، سنن ابن ماجہ/الوصایا ١ (٢٦٩٦) ، (تحفة الأشراف : ٥١٧٠) ، و مسند احمد (٤/٣٥٤، ٣٥٥، ٣٨١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ابن ابی اوفی (رض) نے یہ سمجھا کہ یہ سوال کسی خاص وصیت کے تعلق سے ہے اسی لیے نفی میں جواب دیا ، اس سے مطلق وصیت کی نفی مقصود نہیں ہے ، بلکہ اس نفی کا تعلق مالی وصیت یا علی (رض) سے متعلق کسی مخصوص وصیت سے ہے ، ورنہ آپ ﷺ نے وصیت کی جیسا کہ خود ابن ابی اوفی نے بیان کیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2696) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2119