حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ): نَهَى أَنْ يَجْمَعَ أَحَدٌ بَيْنَ اسْمِهِ وَكُنْيَتِهِ وَيُسَمِّيَ مُحَمَّدًا أَبَا الْقَاسِمِ ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص آپ کا نام اور آپ کی کنیت دونوں ایک ساتھ جمع کر کے محمد ابوالقاسم نام رکھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے، ٣ - بعض اہل علم مکروہ سمجھتے ہیں کہ کوئی نبی اکرم ﷺ کا نام اور آپ کی کنیت ایک ساتھ رکھے۔ لیکن بعض لوگوں نے ایسا کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٤١٤٣) ، و مسند احمد (٢/٤٣٣) (صحیح) (وراجع ماعند صحیح البخاری/ في الأدب (٦١٨٨) وضاحت : ١ ؎ : اس سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے ، بعض کا کہنا ہے کہ آپ کی زندگی میں یہ چیز ممنوع تھی ، آپ کے بعد آپ کا نام اور آپ کی کنیت رکھنا درست ہے ، بعض کا کہنا ہے کہ دونوں ایک ساتھ رکھنا منع ہے ، جب کہ بعض کہتے ہیں کہ ممانعت کا تعلق صرف کنیت سے ہے ، پہلا قول راجح ہے (دیکھئیے اگلی دونوں حدیثیں) ۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، المشکاة (4769 / التحقيق الثانی) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2841