حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِذَا سَمَّيْتُمْ بِاسْمِي فَلَا تَكْتَنُوا بِي ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَجْمَعَ الرَّجُلُ بَيْنَ اسْمِ النَّبِيِّ (ﷺ) وَكُنْيَتِهِ، وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ بَعْضُهُمْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، أَنَّهُ: سَمِعَ رَجُلًا فِي السُّوقِ يُنَادِي: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ (ﷺ)، فَقَال: لَمْ أَعْنِكَ، فَقَال النَّبِيُّ (ﷺ): لَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ، .
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو بازار میں ابوالقاسم کہہ کر پکارتے ہوئے سنا تو آپ اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔ تو اس نے کہا : میں نے آپ کو نہیں پکارا ہے۔ (یہ سن کر) آپ نے فرمایا : میری کنیت نہ رکھو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ ابوالقاسم کنیت رکھنا مکروہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، المشکاة (4769 / التحقيق الثانی) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2841