حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَوْ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ، فَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان میں سے یا تم میں سے کسی کے لیے یہ کہنا برا ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ یہ کہو کہ وہ بھلا دیا گیا ١ ؎ تم قرآن یاد کرتے دھراتے رہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! قرآن لوگوں کے سینوں سے نکل بھاگنے میں چوپایوں کے اپنی رسی سے نکل بھاگنے کی بہ نسبت زیادہ تیز ہے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/فضائل القرآن ٢٣ (٥٠٣٢) ، و ٢٦ (٥٠٣٩) ، صحیح مسلم/المسافرین ٣٣ (٧٩٠) ، سنن النسائی/الافتتاح ٣٧ (٩٤٤) (تحفة الأشراف : ٩٢٩٥) ، و مسند احمد (١/٣٨٢، ٤١٧، ٤٢٣، ٤٦٣٤٣٩) ، وسنن الدارمی/فضائل القرآن ٤ (٣٣٩٠) ، والرقاق ٣٢ (٢٧٨٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ ممانعت نہی تحریمی نہیں ہے ، بلکہ نہی تنزیہی ہے یعنی : ایسا نہیں کہنا چاہیئے کیونکہ اس سے اپنی سستی اور قرآن سے غفلت کا خود ہی اظہار ہے ، یا یہ مطلب ہے کہ ایسا موقع ہی نہ آنے دے کہ یہ بات کہنے کی نوبت آئے بعض روایات میں میں بھول گیا کہنا بھی ملتا ہے ، اس لیے مذکورہ ممانعت نہی تنزیہی پر محمول کی گئی ہے۔ یعنی ایسا نہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔ ٢ ؎ : معلوم ہوا کہ قرآن کو باربار پڑھتے اور دہراتے رہنا چاہیئے ، کیونکہ قرآن جس طرح جلد یاد ہوتا ہے اسی طرح جلد ذہن سے نکل جاتا ہے ، اس لیے قرآن کو بار بار پڑھنا اور اس کا دہرانا ضروری ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الظلال (422) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2942