hadith book logo

Jamiat Tirmidhi: Hadith 3859

.

جامع الترمذي

3859
Jamiat Tirmidhi
صحیح
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ هُوَ السَّلْمَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ):‏‏‏‏ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ تَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَاتِهِمْ أَوْ شَهَادَاتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبُرَيْدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ١ ؎، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد ہیں ٢ ؎، پھر ان کا جو ان کے بعد ہیں ٣ ؎، پھر ان کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو گواہیوں سے پہلے قسم کھائے گی یا قسموں سے پہلے گواہیاں دے گی ٤ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، عمران بن حصین اور بریدہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشھادات ٩ (٢٦٥٢) ، وفضائل الصحابة ١ (٣٦٥١) ، والأیمان والنذور ١٠ (٦٤٢٩) ، والرقاق ٧ (٦٦٥٨) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٢ (٢٥٣٣) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٧ (٢٣٦٢) (تحفة الأشراف : ٩٤٠٣) ، و مسند احمد (١/٣٧٨، ٤١٧، ٤٣٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا زمانہ جو نبی ﷺ کے زمانہ میں تھے ، ان کا عہد ایک قرن ہے ، جو ایک ہجری کے ذرا سا بعد تک ممتد ہے ، آخری صحابی ( واثلہ بن اسقع ) کا اور انس (رض) کا انتقال ١١٠ ھ میں ہوا تھا۔ ٢ ؎ : یعنی تابعین رحمہم اللہ۔ ٣ ؎ : یعنی : اتباع تابعین رحمہم اللہ ان کا زمانہ سنہ ٢٢٠ ھ تک ممتد ہے ( بعض علماء نے ان تین قرون سے : عہد صدیقی ، عہد فاروقی اور عہد عثمانی مراد لیا ہے ، کہ عہد عثمانی کے بعد فتنہ و فساد کا دور دورہ ہوگیا تھا ، واللہ اعلم۔ ٤ ؎ : یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے کے بڑے حریص ہوں گے ، ہر وقت اس کے لیے تیار رہیں گے ذرا بھی احتیاط سے کام نہیں لیں گے ، یہ باتیں اتباع تابعین کے بعد عام طور سے مسلمانوں میں پیدا ہوگئی تھیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2362) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3859