حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جن لوگوں نے (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہوگا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ السنة ٩ (٤٨٥٣) (تحفة الأشراف : ٢٩١٨) ، و مسند احمد (٣/٣٥٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : جس درخت کے نیچے بیعت ہوئی تھی یہ ایک کیکر کا درخت تھا اور اس بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے ، یہ ٦ ھ میں مقام حدیبیہ میں ہوئی ، اس میں تقریباً تیرہ سو صحابہ شامل تھے۔ ایسے لوگوں کے منہ خاک آلود اور ان کی عاقبت برباد ہو جو صحابہ کرام (رض) اجمعین پر بکواس کرتے اور ان پر تہمتیں دھرتے ہیں ، ہماری اس بددعا کی تائید کے لیے اگلی احادیث پڑھ لیجئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح ظلال الجنة (860) ، الصحيحة (2160) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3860