حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ (ﷺ) يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ اسْمُهُ: نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ الضُّبَعِيُّ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابوحمزہ ضبعی کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التہجد ١٠ (١١٣٨) ، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٤) ، ( تحفة الأشراف : ٦٥٢٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : پیچھے حدیث رقم ٤٣٩ میں گزرا کہ آپ رمضان یا غیر رمضان میں تہجد گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ، اور اس حدیث میں تیرہ پڑھنے کا تذکرہ ہے ، تو کسی نے ان تیرہ میں عشاء کی دو سنتوں کو شمار کیا ہے کہ کبھی تاخیر کر کے ان کو تہجد کے ساتھ ملا کر پڑھتے تھے ، اور کسی نے یہ کہا ہے کہ اس میں فجر کی دو سنتیں شامل ہیں ، کسی کسی روایت میں ایسا تذکرہ بھی ہے ، یا ممکن ہے کہ کبھی گیارہ پڑھتے ہوں اور کبھی تیرہ بھی ، جس نے جیسا دیکھا بیان کردیا ، لیکن تیرہ سے زیادہ کی کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1205) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 442