حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ (ﷺ) يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ،وَرَوَاهُ سفيان الثوري، عَنْ الْأَعْمَشِ نَحْوَ هَذَا،
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عائشہ (رض) کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، زید بن خالد اور فضل بن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨١ (١٣٦٠) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٩٥١) ، مسند احمد (٦/٣٠، ١٠٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ایسا کبھی کبھی کرتے تھے ، یہ سب نشاط اور چستی پر منحصر تھا ، اس بابت یہ نہیں کہہ سکتے کہ حدیثوں میں تعارض ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1213) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 443 سفیان ثوری نے بھی یہ حدیث اسی طرح اعمش سے روایت کی ہے،