(۱۰۰۸۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِیِّ عَنْ أَبِی أَسْمَائَ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ کَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ فَخَرَجَ مَعَہُ مِنَ الْمَدِینَۃِ فَمَرُّوا عَلَی حُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ مَرِیضٌ بِالسُّقْیَا فَأَقَامَ عَلَیْہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَتَّی إِذَا خَافَ الْفَوَاتَ خَرَجَ وَبَعَثَ إِلَی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَأَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَہُمَا بِالْمَدِینَۃِ فَقَدِمَا عَلَیْہِ ثُمَّ إِنَّ حُسَیْنًا أَشَارَ إِلَی رَأْسِہِ فَأَمَرَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِرَأْسِہِ فَحُلِقَ ثُمَّ نَسَکَ عَنْہُ بِالسُّقْیَا فَنَحَرَ عَنْہُ بَعِیرًا قَالَ یَحْیَی : وَکَانَ حُسَیْنٌ خَرَجَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی سَفَرِہِ ذَلِکَ۔ [حسن۔ اخرجہ مالک ۷۶۸]
(١٠٠٨٨) ابوسماء جو عبداللہ بن جعفر کا غلام ہے اس نے خبر دی کہ وہ حضرت حسین بن علی (رض) کے پاس سے گزرے جو (پیٹ کے اندر پانی جمع ہوجانے والی) بیماری میں مبتلا تھے۔ عبداللہ بن جعفر نے ان کے ہاں قیام کیا ۔ جب موت کا خوف پیدا ہو وہاں سے چلے گئے اور حضرت علی بن ابی طالب اور اسماء بنت عمیس کو روانہ کردیا جو اس وقت مدینہ میں تھے۔ اس وقت حسین صرف سر سے اشارہ کرتے تھے تو حضرت علی (رض) نے ان کے سر کو مونڈنے کا حکم دیا اور ” سقیا “ نامی جگہ پر ان کی طرف سے قربانی پیش کی گئی، ایک اونٹ نحر کیا۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ حسین حضرت عثمان بن عفان (رض) کے ساتھ ایک سفر میں نکلے تھے۔