(۱۰۰۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ کَانَ قَدِیمًا أَنَّہُ قَالَ : خَرَجْتُ إِلَی مَکَّۃَ حَتَّی إِذَا کُنْتُ بِالطَّرِیقِ کُسِرَتْ فَخَذِی فَأَرْسَلْتُ إِلَی مَکَّۃَ وَبِہَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَالنَّاسُ فَلَمْ یُرَخِّصْ لِی أَحَدٌ فِی أَنْ أَحِلَّ فَأَقَمْتُ عَلَی ذَلِکَ الْمَائِ سَبْعَۃَ أَشْہُرٍ ثُمَّ حَلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ مالک ۸۰۴]
(١٠٠٩٤) ایوب سختیانی اہل بصرہ کے ایک بوڑھے آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں مکہ کی طرف گیا۔ میں ابھی راستہ میں تھا کہ میری ران ٹوٹ گئی۔ میں نے مکہ کو چھوڑ دیا لیکن میرے ساتھ عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر (رض) اور دیگر لوگ تھے۔ کسی نے بھی مجھے حلال ہونے کی رخصت نہ دی۔ میں نے اس چشمہ پر سات ماہ گزارے۔ پھر میں عمرہ کرنے کے بعد حلال ہوا۔