(۱۰۰۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ قَالَ : خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا حَتَّی إِذَا کُنْتُ بِالْدَثِنَیَّۃِ وَقَعْتُ عَنْ رَاحِلَتِی فَکُسِرْتُ فَبَعَثْتُ إِلَی ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فَسُئِلاَ فَقَالاَ : لَیْسَ لَہُ وَقْتٌ کَوَقْتِ الْحَجِّ یَکُونُ عَلَی إِحْرَامِہِ حَتَّی یَصِلَ إِلَی الْبَیْتِ قَالَ فَتَنَقَّلْتُ تِلْکَ الْمِیَاہَ سِتَّۃَ أَشْہُرٍ أَوْ سَبْعَۃَ أَشْہُرٍ حَتَّی وَصَلْتُ إِلَی الْبَیْتِ۔ ہُوَ أَبُو الْعَلاَئِ : یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ مِنْ ثِقَاتِ الْبَصْرِیِّینَ۔ [صحیح]
(١٠٠٩٥) ایوب ابوالعلاء سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمرہ کی غرض سے نکلا اور دثنیہ، مقام پر آگیا۔ میں اپنی سواری سے گرپڑا اور میرا کوئی عضو ٹوٹ گیا۔ میں نے کسی کو ابن عمر، ابن عباس (رض) کی طرف روانہ کیا تاکہ ان دونوں سے سوال کیا جائے۔ ان دونوں نے کہا : اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں جیسے حج کے لیے ہوتا ہے وہ اپنے احرام میں رہے جب تک بیت اللہ نہ پہنچے۔ کہتے ہیں : میں اسی پانی پر چھ ماہ یا سات ماہ رہا۔ پھر میں بیت اللہ پہنچا۔