(۱۰۰۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَمَرْوَانَ وَابْنَ الزُّبَیْرِ أَفْتَوْا ابْنَ حُزَابَۃَ الْمَخْزُومِیَّ وَإِنَّہُ صُرِعَ بِبَعْضِ طَرِیقِ مَکَّۃَ وَہُوَ مُحْرِمٌ أَنْ یَتَدَاوَی بِمَا لاَ بُدَّ مِنْہُ وَیَفْتَدِیَ فَإِذَا صَحَّ اعْتَمَرَ فَحَلَّ مِنْ إِحْرَامِہِ وَکَانَ عَلَیْہِ أَنْ یَحُجَّ عَامًا قَابِلاً وَیُہْدِیَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۸۰]
(١٠٠٩٦) سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ ابن عمر، مروان اور ابن زبیر ان سب نے ابن حزابہ مخزومی کو فتویٰ دیا جس وقت وہ حالت احرام میں سواری سے گرپڑا کہ وہ علاج کروائے جو ضروری ہے اس کا فدیہ دے جب درست ہوجائے تو عمرہ کرے۔ پھر اپنے احرام سے حلال ہوجائے۔ لیکن آئندہ سال اس پر حج ہے اور قربانی دے۔