(۱۰۲۳) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِکٍ الأَشْجَعِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ الأَہْوَازِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی مَالِکٍ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ -: ((فُضِّلْنَا عَلَی النَّاسِ بِثَلاَثٍ : جُعِلَتْ صُفُوفُنَا کَصُفُوفِ الْمَلاَئِکَۃِ ، وَجُعِلَتِ الأَرْضُ لَنَا مَسْجِدًا وَجُعِلَ تُرَابُہَا طَہُورًا ، وَأُعْطِیتُ ہَذِہِ الآیَۃُ مِنْ آخِرِ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ مِنْ بَیْتِ کَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ یُعْطَ أَحَدٌ مِنْہُ قَبْلِی ، وَلاَ یُعْطَی أَحَدٌ مِنْہُ بَعْدِی))۔
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی کَامِلٍ وَحَدِیثُ عَفَّانَ بِمَعْنَاہُ وَقَالَ : ((وَجُعِلَ تُرَابُہَا لَنَا طَہُورًا))۔
[صحیح۔ أخرجہ احمد ۵/۲۸۳]
(١٠٢٣) سیدنا حذیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمیں لوگوں پر تین چیزوں کی فضیلت دی گئی ہے، ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئیں ہیں اور زمین ہمارے لیے مسجد بنائی گئی ہے اور اس کی مٹی پاک کردی گئی ہیں اور سورة بقرہ کی آخری آیت خزانوں کے گھر عرش کے نیچے سے عطا کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی اور نہ ہی میرے بعد کسی کو دی جائے گی۔
(ب) حدیث عفان اسی روایت کے معنی میں ہے، ” اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کردی ہے۔ “