(۱۰۴۹۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا یَقُولُ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ یُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الصَّرْفِ وَلَمْ یَسْمَعْ فِیہِ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- شَیْئًا قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ تُبَایِعُوا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ وَلاَ الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ سَوَائً بِسَوَائٍ ولاَ تُشِفُّوا بَعْضَہُ عَلَی بَعْضٍ إِنِّی أَخَافُ عَلَیْکُمْ الرَّمَائَ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ : وَمَا الرَّمَائُ ؟ قَالَ : الرِّبَا قَالَ فَحَدَّثَہُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ حَدِیثًا قَالَ نَافِعٌ فَأَخَذَ بِیَدِ الأَنْصَارِیِّ وَأَنَا مَعَہُمَا حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فَقَالَ : یَا أَبَا سَعِیدٍ ہَذَا حَدَّثَ عَنْکَ حَدِیثَ کَذَا وَکَذَا قَالَ : مَا ہُوَ فَذَکَرَہُ ۔ قَالَ : نَعَمْ سَمِعَ أُذُنَایَ وَبَصُرَ عَیْنِی قَالَہَا ثَلاَثًا فَأَشَارَ بِإِصْبَعَیْہِ حِیَالَ عَیْنَیْہِ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یَقُولُ : لاَ تُبَایِعُوا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ وَلاَ تُبَایِعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ سَوَائً بِسَوَائٍ وَلاَ تَبِیعُوا شَیْئًا مِنْہَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَہُ عَلَی بَعْضٍ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ دُونَ قَوْلِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۸۴]
(١٠٤٩٠) ابن عمر، حضرت عمر (رض) سے سونے کی بیع کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ تم سونا سونے کے عوض چاندی چاندی کے عوض فروخت نہ کرو، ماسوائے برابر برابر اور تم ایک دوسرے پر کمی بیشی نہ کرو، مجھے تمہارے اوپر سود کا ڈر ہے، کہتے ہیں : ایک انصاری نے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے ایک حدیث نقل فرمائی۔ نافع کہتے ہیں کہ انصاری نے ہمارا ہاتھ پکڑ لیا اور میں ان دونوں کے ساتھ ابوسعید خدری (رض) کے پاس آیا۔ اس نے کہا : اے ابوسعید ! اس نے آپ سے (فلاں فلاں) حدیث بیان کی ہے وہ کیا ہے ؟ اس نے ذکر کیا تو ابو سعید فرمانے لگے : ہاں میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا، اس بات کو انھوں نے تین مرتبہ دہرایا۔ انھوں نے اپنی انگلیوں سے اپنی آنکھوں کے برابر اشارہ کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے عوض تم فروخت نہ کروسوائے برابر برابر اور کوئی چیز تم نقد کے بدلے ادھار میں فروخت نہ کرو اور نہ ہی تم ایک دوسرے پر کمی بیشی کرو۔