(۱۰۴۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاکِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ الْمَکِّیِّ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَجَائَ صَائِغٌ فَقَالَ لَہُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّی أَصُوغُ الذَّہَبَ ثُمَّ أَبِیعُ شَیْئًا مِنْ ذَلِکَ بِأَکْثَرَ مِنْ وَزْنِہِ فَأَسْتَفْضِلُ فِی ذَلِکَ قَدْرَ عَمَلِ یَدِی فَنَہَاہُ ابْنُ عُمَرَ عَنْ ذَلِکَ فَجَعَلَ الصَّائِغُ یَرُدُّ عَلَیْہِ الْمَسْأَلَۃَ وَابْنُ عُمَرَ یَنْہَاہُ حَتَّی انْتَہَی إِلَی بَابِ الْمَسْجِدِ إِلَی دَابَّۃٍ یَرْکَبُہَا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : الدِّینَارُ بِالدِّینَارِ وَالدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمِ لاَ فَضْلَ بَیْنَہُمَا ہَذَا عَہْدُ نَبِیِّنَا -ﷺ- إِلَیْنَا وَعَہْدُنَا إِلَیْکُمْ۔ وَفِی رِوَایَۃِ سَالِمٍ وَنَافِعٍ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ ابْنَ عُمَرَ لَمْ یَسْمَعْ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی ذَلِکَ شَیْئًا وَإِنَّمَا سَمِعَہُ مِنْ أَبِیہِ ثُمَّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۳۰۰]
(١٠٤٩١) مجاہد فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر (رض) کے ساتھ تھا۔ ایک سنار آیا، اس نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! میں سونے کو خالص بناتا ہوں، ملاوٹ سے صاف کرتا ہوں، پھر میں اس کو فروخت کرتا ہوں کسی چیز کے عوض جو وزن میں اس سے زائد ہوتی ہے، تو میں اپنی مزدوری کے عوض کچھ زائد وصول کرتا ہوں۔ ابن عمر (رض) نے اس کو منع کردیا تو سنار اپنی بات بار بار دہرا رہا تھا اور ابن عمر (رض) ان کو منع فرما رہے تھے، یہاں تک کہ وہ مسجد کے دروازے پر آکر اپنے چوپائے پر سوار ہوگئے۔ ابن عمر (رض) فرمانے لگے : دینار دینار کے بدلے، درہم درہم کے بدلے ان کے درمیان تفاضل نہیں ہے (زیادتی یا کمی نہیں) یہ ہم سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عہد لیا تھا اور ہمارا عہد تم سے یہی ہے۔