hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 1073

.

سنن البيهقي

1073
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۷۴) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ وَأَبُو سَعِیدٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِیَّ یَقُولُ بَلَغَنِی عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یُخْبِرُ : أَنَّ رَجُلاً أَصَابَہُ جُرْحٌ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -ثُمَّ أَصَابَہُ احْتِلاَمٌ ، فَأُمِرَ بِالاِغْتِسَالِ ، فَاغْتَسَلَ فَکَزَّ فَمَاتَ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَقَالَ : ((قَتَلُوہُ قَتَلَہُمُ اللَّہُ ، أَلَمْ یَکُنْ شِفَائُ الْعِیِّ السُّؤَالَ؟))۔ قَالَ عَطَائٌ : فَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : ((لَوْ غَسَلَ جَسَدَہُ وَتَرَکَ رَأْسَہُ حَیْثُ أَصَابَہُ الْجُرْحُ))۔ فَہَذَا الْمُرْسَلُ یَقْتَضِی غَسْلَ الصَّحِیحِ مِنْہُ وَالأَوَّلُ یَقْتَضِی التَّیَمُّمَ ، فَمَنْ أَوْجَبَ الْجَمْعَ بَیْنَہُمَا یَقُولُ لاَ تَنَافِی بَیْنَ الرِّوَایَتَیْنِ إِلاَّ أَنَّ إِحْدَاہُمَا مُرْسَلَۃٌ۔ [حسن لغیرہٖ]
(١٠٧٤) عطاء بن أبی رباح نے سیدنا ابن عباس (رض) سے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک شخص کو زخم لگا، پھر اسے احتلام ہوگیا، اسے غسل کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو سردی سے مرگیا۔ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” انھوں نے اس کو ہلاک کیا ہے اللہ ان کو ہلاک کرے۔ کیا جاہل کی شفاء سوال کرنا نہیں ہے۔
عطاء کہتے ہیں : ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کاش وہ اپنے جسم کو دھوتا اور سر کو چھوڑ دیتا جس جگہ اسے زخم لگا تھا۔ (ب) یہ مرسل روایت غسل کی مقتضی ہے جبکہ پہلی روایت میں تیمم کا حکم ہے۔ جنھوں نے دونوں روایات میں تطبیق دی ہے، وہ کہتے ہیں : دونوں روایات ایک دوسرے کے منافی نہیں، ان میں سے ایک روایت مرسل ہے۔