(۱۰۹۲۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : أَنَّ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ أَہْدَی إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ ثَمَرَۃِ أَرْضِہِ فَرَدَّہَا فَقَالَ أُبَیُّ : لِمَ رَدَدْتَ عَلَیَّ ہَدِیَّتِی وَقَدْ عَلِمْتَ أَنِّی مِنْ أَطْیَبِ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ ثَمَرَۃً خُذْ عَنِّی مَا تَرُدُّ عَلَیَّ ہَدِیَّتِی وَکَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَسْلَفَہُ عَشْرَۃَ آلاَفِ دِرْہَمٍ ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف]
(١٠٩٢٩) محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب (رض) نے حضرت عمر (رض) کو اپنی زمین کا پھل تحفہ میں دیا، انھوں نے واپس کردیا، حضرت ابی بن کعب نے کہا : آپ نے میرا ہدیہ واپس کیوں کیا ؟ آپ جانتے ہیں کہ اہل مدینہ سے میرا پھل عمدہ ہوتا ہے، میرا ہدیہ قبول کریں۔ کیونکہ حضرت عمر (رض) نے ان کو ١٠ ہزار درہم قرض دیا تھا۔