(۱۰۹۸۸) أَخْبَرَنَا الشَّیْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ کَانَ عِنْدَہُ مَالُ یَتِیمَیْنِ فَجَعَلَ یُزَکِّیہِ فَقُلْتُ : یَا أَبَتَاہُ لاَ تَتْجِرُ فِیہِ وَلاَ تَضْرِبُ مَا أَسْرَعَ ہَذِہِ فِیہِ قَالَ : لأُزَکِّیَنَّہُ وَلَوْ لَمْ یَبْقَ إِلاَّ دِرْہَمٌ قَالَ ثُمَّ اشْتَرَی لَہُمَا بِہِ دَارًا۔ [اخرجہ ابن الجعد،حدیث ۲۷۶۴]
(١٠٩٨٨) حضرت سالم اپنے والد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کے پاس دو یتیموں کا مال تھا، وہ اس سے زکوۃ ادا کرنے لگے، میں نے کہا : ابا جی ! آپ اس مال کے ساتھ تجارت کیوں نہیں کرتے اور اسے مضاربت پر کیوں نہیں دیتے ؟ آپ دیکھ رہے ہیں کہ شاید یہ جلدی ختم ہو رہا ہے۔ وہ کہنے لگے : میں اس سے زکوۃ ادا کرتا رہوں گا۔ اگرچہ ایک درہم بھی باقی نہ رہیـ‘ فرماتے ہیں کہ پھر انھوں نے ان دو یتیموں کے لیے ان کے مال سے گھر خریدا۔