(۱۱۱۱۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنِی عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ السَّلَمِ فِی النَّخْلِ قَالَ : نُہِیَ عَنْ بَیْعِ النَّخْلِ حَتَّی یَبْدُوَ صَلاَحُہُ قَالَ فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ بَیْعِ النَّخْلِ حَتَّی تَأْکُلَ مِنْہُ أَوْ یُؤْکَلَ وَحَتَّی یُوزَنَ۔ قَالَ شُعْبَۃُ : فَقُلْتُ لِرَجُلٍ فِی الْحَلْقَۃِ مَا یُوزَنُ؟ قَالَ یُحْزَرُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ مُخْتَصَرًا۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۳۷]
(١١١١٠) ابو البختری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے بیع سلم کے بارے میں پوچھا جو کھجوروں میں کی گئی ہو تو انھوں نے کہا : کھجور کی بیع سے منع کیا گیا ہے حتیٰ کے وہ پک جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے پھر ابن عباس (رض) سے پوچھاتو انھوں نے فرمایا : کھجور کی بیع سے منع کیا گیا ہے حتیٰ کے اس میں سے کھایا جائے اور اس کا وزن کیا جاسکے۔
امام شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی سے پوچھا : وزن کیے جانے سے کیا مراد ہے ؟ تو اس نے کہا : اسے توڑ کر محفوظ کیا گیا ہو ۔