(۱۱۱۱۱) وَرَوَاہُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ عَنْ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ : نَہَی عُمَرُ عَنْ بَیْعِ الثَّمَرِ حَتَّی یَصْلُحَ وَنَہَی عَنِ الْوَرِقِ بِالذَّہَبِ نَسَائً بِنَاجِزٍ وَقَالَ فِی التَّفْسِیرِ قُلْتُ : مَا یُوزَنُ؟ قَالَ رَجُلٌ عِنْدَہُ : حَتَّی یُحْزَرَ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ فَذَکَرَہُمَا وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ دُونَ رِوَایَۃِ ابْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۲۵۰ و مسلم ۱۵۳۷]
(١١١١١) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ عمر (رض) نے پھل پکنے سے پہلے بیچنے سے منع کیا اور چاندی کو سونے کے بدلے میں ادھار بیچنے سے منع کیا اور تفسیر میں ہے کہ میں نے کہا : وزن سے کیا مراد ہے ؟ اس کے پاس بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے کہا : اس کی حفاظت کی جاسکے۔