(۱۱۲۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدَیَسَابُوْرِیُّ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سَہْلٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ أَبِی الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا مَطَرٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فِی الرَّجُلِ یَرْتَہِنُ الرَّہْنَ فَیَضِیعُ قَالَ : إِنْ کَانَ أَقَلَّ مِمَّا فِیہِ رَدٌّ عَلَیْہِ تَمَامَ حَقِّہِ وَإِنْ کَانَ أَکْثَرَ فَہُوَ أَمِینٌ۔ ہَذَا لَیْسَ بِمَشْہُورٍ عَنْ عُمَرَ۔وَاخْتَلَفَتِ الرِّوَایَاتُ فِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ فَرُوِیَ عَنْہُ
(١١٢٢٨) حضرت عبید بن عمر فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر (رض) نے فرمایا : جو شخص کوئی چیز گروی رکھے، پھر وہ اس کے پاس ضائع ہوجائے تو وہ جس چیز کے بدلے میں تھی اس سے کم قیمت کی ہو تو یہ اس کے تمام حق کا بدلہ ہوگا (گروی لینے والے کو مزید کوئی مطالبہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس نے گروی کو ضائع کیا تھا ) اور اگر اس کی قیمت اس سے زیادہ ہو تو وہ امین ہے۔ یہ بات حضرت عمر (رض) کے بارے میں مشہور نہیں ہے۔