(۱۱۴۶۶) وَأَمَّا الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ یُوسُفَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : کَانَتْ لِزَمْعَۃَ جَارِیَۃٌ یَتَّطِئُہَا وَکَانَ رَجُلٌ یَتْبَعُہَا یُظَنُّ بِہَا فَمَاتَ زَمْعَۃُ وَالْجَارِیَۃُ حُبْلَی فَوَلَدَتْ غُلاَمًا یُشْبِہُ الرَّجُلَ الَّذِی کَانَ یُظَنُّ بِہَا فَسَأَلَتْ سَوْدَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : أَمَّا الْمِیرَاثُ فَہُوَ لَہُ وَأَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِی مِنْہُ فَإِنَّہُ لَیْسَ لَکِ بِأَخٍ ۔ فَإِسْنَادُ ہَذَا الْحَدِیثِ لاَ یُقَاوِمُ إِسْنَادَ الْحَدِیثِ الأَوَّلِ لأَنَّ الْحَدِیثَ الأَوَّلَ رُوَاتُہُ مَشْہُورُونَ بِالْحِفْظِ وَالْفِقْہِ وَالأَمَانَۃِ وَعَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تُخْبِرُ عَنْ تِلْکَ الْقَصَّۃِ کَأَنَّہَا شَہِدَتْہَا وَالْحَدِیثُ الآخَرُ فِی رُوَاتِہِ مَنْ نُسِبَ فِی آخِرِ عُمْرِہِ إِلَی سَوْئِ الْحِفْظِ وَہُوَ جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ وَفِیہِمْ مَنْ لاَ یُعْرَفُ بِسَبَبٍ یَثْبُتُ بِہِ حَدِیثُہُ وَہُوَ یُوسُفُ بْنُ الزُّبَیْرِ وَقَدْ قِیلَ فِی غَیْرِ ہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ یُوسُفَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَوِ الزُّبَیْرِ بْنِ یُوسُفَ مَوْلًی لآلِ الزُّبَیْرِ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ کَأَنَّہُ لَمْ یَشْہَدِ الْقَصَّۃِ لِصِغَرِہِ فَرِوَایَۃُ مَنْ شَہِدَہَا وَجَمِیعُ مَنْ فِی إِسْنَادِ حَدِیثِہَا حُفَّاظٌ ثِقَاتٌ مَشْہُورُونَ بِالْفِقْہِ وَالْعَدَالَۃِ أَوْلَی بِالأَخْذِ بِہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
(ق) وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الْمُرَادُ بِقَوْلِہِ إِنْ کَانَ قَالَہُ فَإِنَّہُ لَیْسَ لَکِ بِأَخٍ شَبَہًا وَإِنْ کَانَ لَکِ بِحُکْمِ الْفِرَاشِ أَخًا فَلاَ یَکُونُ لِقَوْلِہِ ہُوَ أَخُوکَ یَا عَبْدُ مُخَالِفًا فَقَدْ أَلْحَقَہُ بِالْفِرَاشِ حِینَ حَکَمَ لَہُ بِالْمِیرَاثِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف]
(١١٤٦٦) حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ زمعہ کی ایک لونڈی تھی، وہ اس سے وطی کرتا تھا اور ایک آدمی اس کا پیچھا کرتا تھا، اس کا خیال تھا کہ زمعہ فوت ہوجائے، لونڈی حاملہ ہے۔ اس کا بچہ اس آدمی کے زیادہ مشابہ تھا۔ پس سودہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : میراث اس (زمعہ ) کی ہے اور تو اس سے پردہ کیا کر، اس لیے کہ وہ تیرا بھائی نہیں ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول سے یہ مراد ہوسکتی ہے کہشبیہ میں وہ تیرا بھائی نہیں ہے۔ اگرچہ بستر کے حکم سے وہ تیرا بھائی ہے۔ لہٰذایہ اس قول کے مخالف نہیں کہ اے عبد ! وہ تیرا بھائی ہے۔ پس اس کو ملا دیا بستر والے کے ساتھ جب اس کے لیے میراث کا فیصلہ کیا۔