(۱۱۴۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی أَنَّہُ أَخْبَرَہُ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ عَنْ تَفْسِیرِ الْعَارِیَّۃِ الْمُؤَّدَاۃِ قَالَ : أَسْلَمَ قَوْمٌ فِی أَیْدِیہِمْ عَوَارِیٌّ مِنَ الْمُشْرِکِینِ فَقَالُوا : قَدْ أَحْرَزَ لَنَا الإِسْلاَمُ مَا بِأَیْدِینَا مِنْ عَوَارِیِّ الْمُشْرِکِینَ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ الإِسْلاَمَ لاَ یُحْرِزُ لَکُمْ مَا لَیْسَ لَکُمْ الْعَارِیَّۃُ مُؤَدَّاۃٌ ۔ فَأَدَّی الْقَوْمُ مَا بِأَیْدِیہِمْ مِنْ تِلْکَ الْعَوَارِیِّ۔ قَالَ عَلِیٌّ ہَذَا مُرْسَلٌ وَلاَ تَقُومُ بِہِ حُجَّۃٌ۔ [ضعیف]
(١١٤٧٦) عطاء بن ابی رباح نے عاریتاً موذاۃ کی تفسیر میں فرمایا : ایک قوم نے اسلام قبول کیا، ان کے پاس مشرکوں سے لی ہوئی عاریتاً چیزیں تھیں۔ انھوں نے کہا : اسلام نے مشرکوں کی ان چیزوں کو ہمارے لیے محفوظ کردیا ہے۔ یہ بات آپ کے پاس پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام ایسی چیز تمہارے قبضے میں نہیں دیتا جو تمہاری ملکیت نہ ہو۔ عاریتاً لی گئی چیز واپس کرنی چاہیے تو اس قوم نے وہ اشیاء واپس کردیں۔