(۱۱۶۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ فِیمَا یَحْسَبُ أَبُو سَلَمَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَاتَلَ أَہْلَ خَیْبَرَ حَتَّی أَلْجَأَہُمْ إِلَی قَصْرِہِمْ فَغَلَبَ عَلَی الأَرْضِ وَالزَّرْعِ وَالنَّخْلِ فَقَالُوا : یَا مُحَمَّدُ دَعْنَا نَکُونُ فِی ہَذِہِ الأَرْضِ نُصْلِحُہَا وَنَقُومُ عَلَیْہَا وَلَمْ یَکُنْ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَلاَ لأَصْحَابِہِ غِلْمَانٌ یَقُومُونَ عَلَیْہَا فَأَعْطَاہُمْ خَیْبَرَ عَلَی أَنَّ لَہُمُ الشَّطْرُ مِنْ کُلِّ زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَشَیْئٍ مَا بَدَا لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوَاحَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَأْتِیہِمْ فِی کُلِّ عَامٍ فَیَخْرُصُہَا عَلَیْہِمْ ثُمَّ یُضَمِّنُہُمُ الشَّطْرَ فَشَکَوْا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی عَامٍ شِدَّۃَ خَرْصِہِ وَأَرَادُوا أَنْ یَرْشُوہُ فَقَالَ : یَا أَعْدَائَ اللَّہِ تُطْعِمُونِی السُّحْتَ وَلَقَدْ جِئْتُکُمْ مِنْ عِنْدِ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ وَلأَنْتُمْ أَبْغَضُ إِلَیَّ مِنْ عِدَّتِکُمْ مِنَ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیرِ وَلاَ یَحْمِلُنِی بَغُضِی إِیَّاکُمْ وَحُبِّی إِیَّاہُ عَلَی أَنْ لاَ أَعْدِلَ عَلَیْکُمْ فَقَالُوا : بِہَذَا قَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ۔ [صحیح۔ الطبرانی فی الاوسط ۳۳۲۱]
(١١٦٢٦) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل خیبر سے لڑائی کی یہاں تک کہ ان کو ایک قلعے کی طرف قید کردیا۔ زمین اور باغات پر فتح پا لی۔ انھوں نے کہا : اے محمد ! ہمیں یہیں رہنے دیا جائے۔ ہم ان باغات کی دیکھ بھال کریں گے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کے پاس بھی خدام نہ تھے جو وہاں رہتے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر ان کو دے دیا اس شرط پر کہ وہ پھلوں ، اناج یا جو بھی چیز ہوگی اس کا نصف دیں گے اور عبداللہ بن رواحہ ہر سال ان کے پاس جاتے۔ اندازہ لگاتے پھر نصف ان پر لازم کردیتے۔ انھوں نے ایک سال ابن رواحہ کے سختی کے ساتھ فرص لگانے کی شکایت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کی اور انھوں نے رشوت دینے کا ارادہ کیا۔ آپ نے کہا : اے اللہ کے دشمنو ! تم مجھے حرام کھلانا چاہتے ہو، حالانکہ میں نے تمہاری طرف بہترین آدمی کو بھیجا ہے اور تم خنزیر اور بندر سے بھی زیادہ بغض والے ہو۔ میرے نزدیک تمہارا بغض اور اس کی محبت مجھے اس بات پر مجبور نہ کرے گی کہ میں تمہارے ساتھ عدل نہ کروں۔ پھر انھوں نے کہا : اسی عدل کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہے۔