(۱۱۷۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ قَیْسٍ أَنَّہُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ یَقُولُ : کُنَّا أَکْثَرُ الأَنْصَارِ حَقْلاً فَکُنَّا نُکْرِی الأَرْضَ عَلَی أَنَّ لَنَا ہَذِہِ وَلَہُمْ ہَذِہِ فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ ہَذِہِ وَلَمْ تُخْرِجْ ہَذِہِ فَنَہَانَا عَنْ ذَلِکَ وَأَمَّا الْوَرِقُ فَلَمْ یَنْہَنَا۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح]
(١١٧٢٢) حنظلہ بن قیس نے رافع بن خدیج سے سنا کہ ہم اکثر انصاری زمین کا محاقلہ کرتے تھے۔ ہم زمین کرایہ پر دیتے اس شرط پر کہ اس میں سے ہمارے لیے یہ ہوگا اور یہ ان کے لیے۔ کبھی اس کی پیداوار ہوجاتی اور کبھی نہ ہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع کردیا۔ رہا چاندی کا مسئلہ تو اس سے ہم کو منع نہیں فرمایا۔