(۱۱۷۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ أَنَّ حَنْظَلَۃَ بْنَ قَیْسٍ الأَنْصَارِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ یَقُولُ : کُنَّا أَکْثَرُ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ مُزْدَرَعًا وَکُنَّا نُکْرِی الأَرْضَ بِالنَّاحِیَۃِ مِنْہَا تُسَمَّی لِسَیِّدِ الأَرْضِ فَرُبَّمَا یُصَابُ ذَلِکَ وَتُصَابُ الأَرْضُ وَرُبَّمَا یَسْلَمُ ذَلِکَ وَتَسْلَمُ الأَرْضُ قَالَ فَنُہِینَا عَنْ ذَلِکَ فَأَمَّا الذَّہَبُ وَالْوَرِقُ فَلَمْ یَکُنْ فِی ذَلِکَ الزَّمَانِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔ [صحیح]
(١١٧٢٣) حضرت حنظلہ بن قیس انصاری نے حضرت رافع بن خدیج (رض) سے سنا کہ ہم اکثر اہل مدینہ زراعت کرتے تھے، ہم ایک کنارے کے عوض زمین کرایہ پر لیتے تھے جو صاحب زمین کا ہوتا تھا۔ پھر کبھی یہ زمین خراب ہوتی کبھی وہ اور کبھی یہ صحیح رہتی اور کبھی وہ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے ہم کو منع کردیا۔ رہا سونا اور چاندی تو یہ اس زمانہ میں نہیں ہوتا تھا۔