(۱۱۷۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِیُّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أُسَیْدٍ ہُوَ ابْنُ ظُہَیْرٍ ابْنِ أَخِی رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ قَالَ : کَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَی عَنْ أَرْضِہِ أَعْطَاہَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ وَیَشْتَرِطُ ثَلاَثَ جَدَاوِلَ وَیَشْتَرِطُ الْقُصَارَۃَ وَمَا سَقَی الرَّبِیعُ وَکَانَ الْعَیْشُ إِذْ ذَاکَ شَدِیدًا قَالَ : وَکُنَّا نَعْمَلُ فِیہَا بَالْحَدِیدِ وَبِمَا شَائَ اللَّہُ وَنُصِیبُ مِنْ ذَلِکَ مَنْفَعَۃً فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَنْہَاکُمْ عَنْ أَمْرٍ کَانَ لَکُمْ نَافِعًا وَطَاعَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنْفَعُ لَکُمْ وَإِنَّہُ یَنْہَاکُمْ عَنِ الْحَقْلِ وَیَقُولُ : مَنِ اسْتَغْنَی عَنْ أَرْضِہِ فَلْیَمْنَحْہَا أَخَاہُ أَوْ لِیَدَعْ ۔ وَیَنْہَاکُمْ عَنِ الْمُزَابَنَۃِ وَالْمُزَابَنَۃُ أَنْ یَکُونَ لِلرَّجُلِ الْمَالُ الْعَظِیمُ مِنَ النَّخْلِ فَیَأْتِیہِ الرَّجُلُ فَیَقُولُ قَدْ أَخَذْتُہُ بِکَذَا وَکَذَا وَسَقِ تَمْرٍ۔ [ابن ماجہ ۲۴۶۰]
(١١٧٢٤) حضرت رافع بن خدیج کے بھتیجیظہیر کے بیٹے حضرت رسید (رض) فرماتے ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی اپنی زمین سے مستثنیٰ ہوجاتا تو وہ ثلث، ربع اور نصف پردے دیتا اور تین نالیوں کی ، بھوسے کی ، ربیع کے پانی کی ، پیداوار کی شرط لگاتا اور حالات سخت تھے۔ ہم زمینوں میں لوہے سے کام کرتے تھے اور جس سے اللہ چاہتا ہمیں نفع مل جاتا تھا۔ ہمارے پاس رافع بن خدیج آئے اور کہا : تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے کام سے منع کیا ہے جس میں تمہارے لیے نفع ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ نفع مند ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو محاقلہ سے منع کیا اور فرمایا : جو اپنی زمین سے بےبس ہو ، وہ اپنے بھائی کو دے دے یا اسے چھوڑدے اور تم کو مزابنہ سے منع کیا اور مزابنہ یہ ہے کہ آدمی کے پاس باغ ہو، پھر ایک آدمی آئے اور کہے : میں اسے اتنے وسق کھجوروں کے عوض لیتا ہوں۔