(۱۱۷۲۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الْمُحَاقَلَۃِ وَالْمُزَابَنَۃِ وَقَالَ : إِنَّمَا یَزْرَعُ ثَلاَثَۃٌ : رَجُلٌ لَہُ أَرْضٌ فَہُوَ یَزْرَعُہَا وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَہُوَ یَزْرَعُ مَا مُنِحَ وَرَجُلٌ اکْتَرَی أَرْضًا بِذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ ۔ [حسن ابوداؤد۳۴۰۰]
(١١٧٢٥) حضرت رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محاقلہ سے اور مزابنہ سے منع کیا اور فرمایا : تین طرح زراعت کی جاسکتی ہے : زمین کا مالک کھیتی باڑی کرے اور وہ آدمی جسے زمین دی جائے وہ زراعت کرے اور وہ آدمی جو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر لے۔