(۱۱۷۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِیُّ قَالَ بَعَثَنِی عَمِّی أَنَا وَغُلاَمًا لَہُ إِلَی سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ فَقُلْنَا لَہُ: شَیْئٌ بَلَغَنَا عَنْکَ فِی الْمُزَارَعَۃِ۔ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ لاَ یَرَی بِہَا بَأْسًا حَتَّی بَلَغَہُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ فِی حَدِیثٍ فَأَتَاہُ فَأَخْبَرَہُ رَافِعٌ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَتَی بَنِی حَارِثَۃَ فَرَأَی زَرْعًا فِی أَرْضِ ظُہَیْرٍ فَقَالَ : مَا أَحْسَنَ زَرْعَ ظُہَیْرٍ۔ فَقَالُوا: لَیْسَ لِظُہَیْرٍ قَالَ: أَلَیْسَ أَرْضُ ظُہَیْرٍ؟ قَالُوا: بَلَی وَلَکِنَّہُ زَرْعُ فُلاَنٍ قَالَ: فَخُذُوا زَرْعَکُمْ وَرُدُّوا عَلَیْہِ النَّفَقَۃَ۔ قَالَ رَافِعٌ : فَأَخَذْنَا زَرْعَنَا وَرَدَدْنَا إِلَیْہِ النَّفَقَۃَ۔ قَالَ سَعِیدٌ : أَفْقِرْ أَخَاکَ أَوْ أَکْرِہِ بِالدَّرَاہِمِ۔
ظَاہِرُ ہَذِہِ الأَحَادِیثِ تَدُلُّ عَلَی أَنَّ الزَّرْعَ یَتْبَعُ الأَرْضَ وَفُقَہَائُ الأَمْصَارِ عَلَی أَنَّ الزَّرْعَ یَتْبَعُ الْبَذْرَ وَلَوْ ثَبَتَتْ ہَذِہِ الأَحَادِیثُ لَمْ یَکُنْ لأَحَدٍ فِی خِلاَفِہَا حُجَّۃٌ إِلاَّ أَنَّ الْحَدِیثَ الأَوَّلَ یَنْفَرِدُ بِہِ شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَقَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ۔ وَقَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ ضَعِیفٌ عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ وَشَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ مُخْتَلَفٌ فِیہِ کَانَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ لاَ یَرْوِی عَنْہُ وَیُضَعِّفُ حَدِیثَہُ جِدًّا ثُمَّ ہُوَ مُرْسَلٌ
قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی کِتَابِ الْبُوَیْطِیِّ : الْحَدِیثُ مُنْقَطِعٌ لأَنَّہُ لَمْ یَلْقَ عَطَائٌ رَافِعًا۔ [صحیح۔ ابو داؤد ۳۴۰۱]
(١١٧٤٥) ابو جعفر خطمی فرماتے ہیں : مجھے میرے چچانے اپنے ایک غلام کے ساتھ سعید بن مسیب (رح) کی طرف بھیجا، ہم نے ان سے پوچھا کہ زراعت کے بارے میں آپ سے ہمیں کچھ خبر ملی ہے تو انھوں نے کہا : ابن عمر اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے، یہاں تک کہ ان کو رافع کی حدیث ملی۔ آپ رافع کے پاس آئے تو رافع نے بتایا کہ آپ بنی حارثہ کے پاس آئے اور آپ نے ظہیر کی زمین میں زراعت دیکھی۔ آپ نے کہا : کتنی اچھی کھیتی ہے ظہیر کی۔ انھوں نے کہا : یہ کھیتی ظہیر کی نہیں ہے۔ آپ نے پوچھا : کیا یہ ظہیر کی زمین نہیں ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : زمین ظہیر کی ہے لیکن کھیتی فلاں کی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی زراعت لے لو اور خرچ لوٹادو۔ رافع نے کہا : ہم نے اپنی کھیتی لے لی اور خرچہ لوٹادیا۔ سعد کہتے ہیں : اپنے بھائی کو دے دو یا درہموں کے بدلے کرایہ پردے دو ۔