hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 11953

.

سنن البيهقي

11953
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۹۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَغَیْرُہُمَا مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ أَخْبَرَہُمْ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہَا قَالَتْ : إِنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَحَلَہَا جِدَادُ عِشْرِینَ وَسْقًا مِنْ مَالٍ بِالْغَابَۃِ فَلَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ قَالَ : وَاللَّہِ یَا بُنَیَّۃُ مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَیَّ غِنًی بَعْدِی مِنْکِ وَلاَ أَعَزَّ عَلَیَّ فَقْرًا بَعْدِی مِنْکِ وَإِنِّی کُنْتُ نَحَلْتُکِ مِنْ مَالِی جِدَادَ عِشْرِینَ وَسْقًا فَلَوْ کُنْتِ جَدَدْتِیہِ وَاحْتَزْتِیہِ کَانَ لَکِ ذَلِکَ وَإِنَّمَا ہُوَ مَالُ الْوَارِثِ وَإِنَّمَا ہُوَ أَخَوَاکِ وَأُخْتَاکِ فَاقْتَسِمُوہُ عَلَی کِتَابِ اللَّہِ فَقَالَتْ: یَا أَبَۃِ وَاللَّہِ لَوْ کَانَ کَذَا وَکَذَا لَتَرَکْتُہُ إِنَّمَا ہُوَ أَسْمَائُ فَمَنِ الأُخْرَی قَالَ: ذُو بَطْنِ بِنْتِ خَارِجَۃَ أُرَاہَا جَارِیَۃً۔ قَالَ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ بِذَلِکَ۔ قَالَ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ سَمِعْتُ حَنْظَلَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ یُحَدِّثُ بِذَلِکَ أَیْضًا إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : أَرْضًا یُقَالُ لَہَا ثَمْرُدُ وَکَانَتْ عِنْدَہُ لَمْ تَقْبِضْہَا۔ [مالک فی الموطا ۸۰۶]
(١١٩٤٨) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذوجہ محترمہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے مقام غابہ میں واقع اپنی کھجوروں میں سے بیس وسق کٹائی کے وقت حضرت عائشہ (رض) کو دیے، جب حضرت ابوبکر (رض) کی وفات کا وقت آیا تو انھوں نے فرمایا : اے میری بیٹی ! لوگوں میں سے اور کوئی ایسا نہیں جس کا میرے بعد غنی ہونا تمہاری نسبت زیادہ پسند ہو اور نہ کسی کا محتاج ہونا میرے بعد تم سے زیادہ مجھ پر شاق ہے اور میں نے تمہیں بیس وسق کھجور کٹائی کی عطا کی ہے۔ اگر تو نے اسے کٹوا لیا ہے اور اس پر قبضہ کرلیا ہے تو بہتر ورنہ وہ وارثوں کا مال ہے اور وہ تمہارے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، تم اسے کتاب اللہ کے مطابق تقسیم کرلینا۔ حضرت عائشہ (رض) نے کہا : اے ابا جان ! اللہ کی قسم اگر اتنا زیادہ مال بھی ہوتا تو میں چھوڑ دیتی۔ میری بہن تو صرف اسماء ہے، دوسری کون ہے ؟ فرمایا : خارجہ کے پیٹ والی۔ میرے خیال میں وہ لڑکی تھی۔
قاسم بن محمد بھی اسی طرح بیان کرتے ہیں، مگر انھوں نے کہا کہ زمین کا نام ثمرد تھا جو اس کے پاس تھی لیکن اس کا قبضہ نہ تھا۔