(۱۱۹۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ مُوسَی عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: الْعُمْرَی أَنْ یَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: ہُوَ لَکَ مَا عِشْتُ فَإِذَا قَالَ ذَلِکَ فَہُوَ لَہُ وَلِوَرَثَتِہِ۔ وَالرُّقْبَی أَنْ یَقُولَ الإِنْسَانُ : ہُوَ لآخِرِ مَنْ بَقِیَ مِنِّی وَمِنْکَ۔
[حسن۔ ابوداود ۳۵۶۰]
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَانَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ یَذْہَبُ فِی الْقَدِیمِ إِلَی ظَاہِرِ مَا رَوَاہُ الزُّہْرِیُّ وَہُوَ أَنْ یَجْعَلَہَا لَہُ وَلِعَقِبِہِ فَإِنْ جَعَلَہَا لَہُ وَلَمْ یَذْکُرْ عَقِبَہُ قَالَ فِی مَوْضِعٍ ہِیَ بَاطِلَۃٌ وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ : إِذَا مَاتَ الْمُعْمَرُ رَجَعَتْ إِلَی الْمُعْمِرِ ثُمَّ ذَہَبَ فِی الْجَدِیدِ إِلَی سَائِرِ الرِّوَایَاتِ الَّتِی دَلَّتْ عَلَی أَنَّہُ إِذَا جَعَلَہَا لَہُ حَیَاتَہُ وَسَلَّمَہَا إِلَیْہِ کَانَتْ لَہُ وَلِعَقِبِہِ وَہَذَا ہُوَ الْمَذْہَبُ وَکَذَلِکَ فِی الرُّقْبَی۔
(١١٩٩١) مجاہد کہتے ہیں : عمریٰ یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے سے کہے : وہ تیرا ہے جب تک میں زندہ ہوں۔ جب اسی طرح کہے تو وہ اس کا اور اس کے وارثوں کا ہوجائے گا اور رقبیٰ یہ ہے کہ آدمی کہے : وہ دونوں میں سے بعد میں فوت ہونے والے کا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : امام شافعی (رح) کا قدیم مذہب یہ ہے کہ وہ اس کے لیے اور اس کے ورثاء کے لیے کردے۔ اگر اس نے ورثاء کا ذکر نہ کیا تو ایک جگہ پر کہا کہ یہ باطل ہے اور دوسری جگہ پر کہا : جب معمر فوت ہوجائے تو واپس معمر کی طرف لوٹ آئے گا، پھر ان کا جدید مذہب یہ ہے کہ جب اس نے اس کی زندگی میں دے دیا اور اس کے سپرد کردیا تو وہ اس کا اور اس کے ورثاء کا ہوگا۔