(۱۲۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ الصِّبْغِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -سُئِلَ عَنِ الْحِیَاضِ الَّتِی بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ وَقَالُوا : تَرِدُہَا السِّبَاعُ وَالْکِلاَبُ وَالْحَمِیرُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((مَا فِی بُطُونِہَا لَہَا وَمَا بَقِیَ فَہُوَ لَنَا طَہُورٌ))۔
ہَکَذَا رَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔
وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔
وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَیْدٍ ضَعِیفٌ لاَ یُحْتَجُّ بِأَمْثَالِہِ۔
وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا وَلَیْسَ بِمَشْہُورٍ۔ [ضعیف جدًا۔ أخرجہ ابن ماجہ ۵۱۹]
(١٢٢٠) سیدنا ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حوض کے (پانی کے) متعلق سوال کیا گیا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان تھا۔ انھوں نے کہا : اس پر درندے کتے اور گدھے آئے ہوتے ہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جو ان کے پیٹوں میں ہے وہ ان کے لیے ہے اور جو باقی بچ گیا وہ ہمارے لیے پاک ہے۔ “ (ب) عبدالرحمن بن زید ضعیف ہے، اس کی احادیث قابل حجت نہیں۔ (ج) ایک اور سند سے ابن عمر (رض) سے مرفوعاً نقل کیا گیا ہے اور یہ مشہور نہیں ہے۔