(۱۲۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الإِسْفَرَائِنِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَہَارِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ عِکْرِمَۃَ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَرَدَ حَوْضَ مَجَنَّۃَ فَقِیلَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّمَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِیہِ آنِفًا۔ فَقَالَ : إِنَّمَا وَلَغَ الْکَلْبُ بِلِسَانِہِ۔ فَشَرِبَ وَتَوَضَّأَ۔
وَرُوِیَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ فِی ہَذِہِ الْقَصَّۃِ قَالَ : قَدْ ذَہَبَتْ بِمَا وَلَغَتْ۔ یَعْنِی الْکِلاَبَ فِی بُطُونِہَا۔
وَہَذِہِ قِصَّۃٌ مَشْہُورَۃٌ عَنْ عُمَرَ وَإِنْ کَانَتْ مَرْسَلَۃً ، وَقَدْ رُوِّینَا فِی مَعْنَاہَا عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ عُمَرَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ عبد الرزاق ۲۴۹]
(١٢٢٢) سیدنا عکرمہ (رض) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر (رض) مجنہ کے حوض کے پاس آئے۔ عرض کیا گیا : اے امیر المومنین ! ابھی ابھی کتے نے اس میں منہ ڈالا ہے تو انھوں نے کہا : کتا اپنی زبان سے پیتا ہے۔ پھر انھوں نے (پانی) پیا اور وضو کیا۔
(ب) سیدنا عکرمہ (رض) سے یہی قصہ منقول ہے۔ اس میں ہے کہ وہ چلا گیا جس میں اس نے منہ ڈالا۔ یعنی کتے وہ پانی اپنے پیٹوں میں لے گئے۔