(۱۲۲۱۸) وَذَلِکَ فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ عَنِ الزُّہْرِیِّ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ فِی قِصَّۃٍ ذَکَرَہَا قَالَ : فَلَمْ یَلْبَثِ ابْنُ الدَّحْدَاحَۃِ إِلاَّ یَسِیرًا حَتَّی جَائَ کُفَّارُ قُرَیْشٍ یَوْمَ أُحُدٍ فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَاتَلَہُمْ فَقُتِلَ شَہِیدًا۔ [ضعیف]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَإِنَّمَا نَزَلَتْ آیَۃُ الْفَرَائِضِ فِیمَا یُثْبِتُ أَصْحَابُنَا فِی بَنَاتِ مَحْمُودِ بْنِ مَسْلَمَۃَ وَقُتِلَ یَوْمَ خَیْبَرَ وَقَدْ قِیلَ نَزَلَتْ بَعْدَ أُحُدٍ فِی بَنَاتِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِیعِ وَہَذَا کُلُّہُ بَعْدَ أَمْرِ ثَابِتِ بْنِ الدَّحْدَاحَۃِ۔
قَالَ الشَّیْخُ : فِیمَا ذَکَرْنَا مِنْ حَدِیثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَقَوْلِہِ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- إِنَّمَا یَرِثُنِی کَلاَلَۃٌ فَکَیْفَ الْمِیرَاثُ؟ فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْفَرْضِ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہَا نَزَلَتْ بَعْدَ أُحُدٍ فَإِنَّ قَبْلَ أُحُدٍ کَانَ أَبُوہُ حَیًّا وَإِنَّمَا قُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ شَہِیدًا وَخَلَّفَ جَابِرًا وَبَنَاتٍ لَہُ فَحِینَ مَرِضَ جَابِرٌ کَانَتْ لَہُ أَخَوَاتٌ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ أَبٌ وَلاَ وَلَدٌ فَقَالَ : إِنَّمَا یَرِثُنِی کَلاَلَۃٌ فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْفَرَائِضِ وَقَدْ قِیلَ إِنَّمَا نَزَلَتْ فِیہِ آیَۃُ الْفَرَائِضِ الَّتِی فِی آخِرِ سُورَۃِ النِّسَائِ وَنَزَلَتِ الَّتِی فِی أَوَّلِہَا فِی ابْنَتِی سَعْدِ بْنِ الرَّبِیعِ کَمَا قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ۔
(١٢٢١٨) سعید بن مسیب (رح) نے فرمایا کہ ابن دحداح تھوڑی دیر ٹھہرے، یہاں تک کہ قریش کے کفار آگئے احد کے دن۔ وہ بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے، ان سے لڑے اور شہید کردیے گئے۔
امام شافعی (رح) نے فرمایا : فرائض کی آیت محمود بن سلمہ کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی، وہ خیبر کے دن فوت ہوگئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ احد کے بعد سعد بن ربیع کی بیٹیوں کے بارے نازل ہوئی۔ یہ سب ثابت بن دحداح کے معاملے کے بعد کی باتیں ہیں۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : حدیث جابر بن عبداللہ (رض) جو ہم نے ذکر کی ہے ان کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہنا کہ کلالہ میرا وارث بنا ہے، پس میراث کیسے تقسیم ہوگی تو آیت فرائض نازل ہوئی، یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت فرائض احد کے بعد نازل ہوئی۔ اس لیے کہ احد سے پہلے اس کے والدزندہ تھے اور احد کے دن وہ شہید کردیے گئے اور انھوں نے جابر اور اپنی بیٹیوں کو چھوڑا تھا، جب جابر (رض) بیمار ہوئے تو ان کی بہنیں تھیں، نہ ان کے باپ تھے اور نہ اولاد تو کہا : میں نے کلالہ کو وارث بنایا ہے، پس آیت فرائض نازل ہوئی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بارے میں وہ آیت فرائض نازل ہوئی جو سورة النساء کے آخر میں ہے اور وہ آیت فرائض جو شروع میں ہے وہ سعد بن ربیع کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی جیسا کہ امام شافعی (رح) نے فرمایا۔