(۱۲۲۴۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا یَزِیدُ أَخْبَرَنَا حَبِیبُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عَمِْرِو بْنِ ہَرِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : أَیُّمَا رَجُلٍ قَتْلَ رَجُلاً أَوِ امْرَأَۃً عَمْدًا أَوْ خَطَأً مِمَّنْ یَرِثُ فَلاَ مِیرَاثَ لَہُ مِنْہُمَا وَأَیُّمَا امْرَأَۃٍ قَتَلَتْ رَجُلاً أَوِ امْرَأَۃٍ عَمْدًا أَوْ خَطَأً فَلاَ مِیرَاثَ لَہَا مِنْہُمَا وَإِنْ کَانَ الْقَتْلُ عَمْدًا فَالْقَوْدَ إِلاَّ أَنْ یَعْفُوَ أَوْلِیَائُ الْمَقْتُولِ فَإِنْ عَفَوْا فَلاَ میِرَاثَ لَہُ مِنْ عَقْلِہِ وَلاَ مِنْ مَالِہِ قَضَی بِذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَشُرَیْحٌ وَغَیْرُہُمْ مِنْ قُضَاۃِ الْمُسْلِمِینَ۔ [ضعیف]
(١٢٢٤٧) حضرت جابر بن زید (رض) فرماتے ہیں : جو آدمی کسی مرد یا عورت کو عمداً قتل کرے یا غلطی سے اس کے لیے ان کی وراثت میں سے کچھ نہیں ہے اور جو عورت کسی مرد یا عورت کو عمداً یا غلطی سے قتل کرے اس کے لیے ان کی وراثت میں سے کچھ نہیں ہے اور اگر قتل عمداً ہو تو بدلہ ہے مگر یہ کہ مقتول کے ورثاء معاف کردیں۔ اگر وہ معاف کردیں تو اس کی دیت اور مال سے اس کے لیے کوئی وراثت نہیں ہے۔ اسی طرح عمر بن خطاب، علی، شریح (رض) اور دیگر مسلمان قاضیوں نے فیصلہ کیا۔