(۱۲۳۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَلاَّلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو یَعْلَی قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ مَعَانِیَ ہَذِہِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَہَا عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَمَّا التَّفْسِیرُ فَتَفْسِیرُ أَبِی الزِّنَادِ عَلَی مَعَانِی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : وَمِیرَاثُ الإِخْوَۃِ لِلأُمِّ أَنَّہُمْ لاَ یَرِثُونَ مَعَ الْوَلَدِ وَلاَ مَعَ وَلَدِ الاِبْنِ ذَکَرًا کَانَ أَوْ أُنْثَی شَیْئًا وَلاَ مَعَ الأَبِ وَلاَ مَعَ الْجَدِّ أَبِ الأَبِ شَیْئًا وَہُمْ فِی کُلِّ مَا سَوَی ذَلِکَ یُفْرَضُ لِلْوَاحِدِ مِنْہُمُ السُّدُسُ ذَکَرًا کَانَ أَوْ أُنْثَی فَإِنْ کَانُوا اثْنَیْنِ فَصَاعِدًا ذُکُورًا أَوْ إِنَاثًا فُرِضَ لَہُمُ الثُّلُثُ یَقْتَسِمُونَہُ بِالسَّوَائِ ۔
[ضعیف]
(١٢٣٢٤) خارجہ بن زید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ اخیافی بھائی کی وراثت یہ ہے وہ والد اور بیٹے کی اولاد خواہ مذکر ہو یا مونث کے ساتھ وارث نہیں بنیں گے اور نہ ہی باپ، دادا کے ساتھ اور اس کے علاوہ ایک کے لیے سدس ہے، مذکر ہو یا مونث۔ پس اگر وہ ایک سے زائد ہوں تو مذکر ہوں یا مونث ثلث کے وارث ہوں گے برابر میں تقسیم کرلیں گے۔