(۱۲۷۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنِی فِیمَا حَدَّثَہُ ابْنٌ لِعَدِیِّ بْنِ عَدِیٍّ الْکِنْدِیِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَتَبَ أَنَّ مَنْ سَأَلَ عَنْ مَوَاضِعِ الْفَیْئِ فَہُوَ مَا حَکَمَ فِیہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَرَآہُ الْمُؤْمِنُونَ عَدْلاً مُوَافِقًا لِقَوْلِ النَّبِیِّ -ﷺ- : جَعَلَ اللَّہُ الْحَقَّ عَلَی لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِہِ ۔ فَرَضَ الأَعْطِیۃَ وَعَقَدَ لأَہْلِ الأَدِیَانِ ذِمَّۃً بِمَا فَرَضَ عَلَیْہِمْ مِنَ الْجِزَّیَۃِ لَمْ یَضْرِبْ فِیہَا بِخُمُسٍ وَلاَ مَغْنَمٍ۔
رِوَایَۃُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُنْقَطِعَۃٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١٢٧٢٣) حضرت عمر بن عبدالعزیز نے لکھا کہ جو شخص پوچھے کہ مال فئی کو کہاں کہاں صرف کرنا چاہیے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے عمر بن خطاب (رض) نے حکم دیا، پھر مسلمانوں نے اسے انصاف کے موافق اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کے موافق سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے حق عمر کی زبان اور دل پر جاری کردیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے عطاؤں کو مقرر کیا اور سب دین والوں کا ذمہ لیا جزیے کے بدلے میں۔ نہ ان میں خمس مقرر کیا اور نہ اسے مال غنیمت کی مثل سمجھا۔