hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12729

.

سنن البيهقي

12729
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۷۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ َخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ َخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُیَیْنَۃَ یُحَدِّثُ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ مَالِکَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ یَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّاب رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَالْعَبَّاسَ وَعَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَخْتَصِمَانِ إِلَیْہِ فِی أَمْوَالِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : کَانَتْ أَمْوَالُ بَنِی النَّضِیرِ مِمَّا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ مِمَّا لَمْ یُوجِفِ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُونَ بِخَیْلٍ وَلاَ رِکَابٍ فَکَانَتْ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- خَالِصًا دُونَ الْمُسْلِمِینَ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُنْفِقُ مِنْہَا عَلَی أَہْلِہِ نَفَقَۃَ سَنَۃٍ فَمَا فَضَلَ جَعَلَہُ فِی الْکُرَاعِ وَالسِّلاَحِ عُدَّۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ ثُمَّ تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَوَلِیَہَا أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمِثْلِ مَا وَلِیَہَا بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ وَلِیتُہَا بِمِثْلِ مَا وَلِیَہَا بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ سَأَلْتُمَانِی أَنْ أُوَلِّیَکُمَاہَا فَوَلَّیْتُکُمَاہَا عَلَی أَنْ تَعْمَلاَ فِیہَا بِمِثْلِ مَا وَلِیَہَا بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ وَلِیَہَا بِہِ أَبُو بَکْرٍ ثُمَّ وَلِیتُہَا بِہِ فَجِئْتُمَانِی تَخْتَصِمَانِ أَتُرِیدَانِ أَنْ أَدْفَعَ إِلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْکُمَا نِصْفًا أَتُرِیدَانِ مِنِّی قَضَائً أَتُرِیدَانِ غَیْرَ مَا قَضَیْتُ بِہِ بَیْنَکُمَا أَوَّلاً فَلاَ وَالَّذِی بِإِذْنِہِ تَقُومُ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ لاَ أَقْضِی بَیْنَکُمَا قَضَائً غَیْرَ ذَلِکَ فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْہَا فَادْفَعَاہَا إِلَیَّ أَکْفِیکُمَاہَا۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ فَقَالَ لِی سُفْیَانُ لَمْ أَسْمَعْہُ مِنَ الزُّہْرِیِّ وَلَکِنْ أَخْبَرَنِیہِ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ قُلْتُ کَمَا قَصَصْتَ قَالَ نَعَمْ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ مُخْتَصَرًا۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَمَعْنَی قَوْلِ عُمَرَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- خَاصَّۃً یُرِیدُ مَا کَانَ یَکُونُ لِلْمُوجِفِینَ وَذَلِکَ أَرْبَعَۃُ أَخْمَاسِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافعی فی الام ۴/ ۱۴۰]
(١٢٧٢٤) حضرت عباس اور علی بن ابی طالب (رض) دونوں حضرت عمر (رض) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مال کے بارے جھگڑ رہے تھے، حضرت عمر (رض) نے کہا : بنی نضیر کے اموال تھے، ان سے اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لوٹایا جس پر مسلمانوں کے گھوڑے اور اونٹ نہ دوڑائے گئے تھے، پس وہ مسلمانوں کے سوا صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے خاص تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے اپنے اہل پر خرچ کرتے تھے اور جو بچ جاتا اسے اللہ کے راستے میں تیاری کے لیے اسلحہ وغیرہ کے لیے دے دیتے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے، پھر ابوبکر (رض) اس کے والی بنے اسی طرح جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے والی تھے، پھر میں اس کا والی بنا جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) اس کے والی بنے، پھر تم دونوں نے مجھ سے سوال کیا کہ میں تم کو والی بنا دوں۔ پس میں نے تم دونوں کو اس کا والی بنادیا اس شرط پر کہ تم اس میں کام کرو جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابوبکر (رض) ، پھر میں اس کا والی بنا۔ پس تم دونوں میرے پاس آئے تم جھگڑا کر رہے ہو، تم ارادہ رکھتے ہو کہ میں تم میں سے ہر ایک کو نصف نصف دے دوں۔ کیا تم مجھ سے فیصلے کا ارادہ رکھتے ہو کہ میں تم میں سے ہر ایک کو نصف نصف دے دوں کیا تم یہ ارادہ رکھتے ہو کہ پہلے کے علاوہ کوئی فیصلہ کروں۔ اس ذات کی قسم جس کی اجازت سے آسمان و زمین قائم ہے، میں تمہارے درمیان اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ نہ کروں گا۔ اگر تم دونوں اس سے عاجز آگئے ہو تو مجھے واپس لوٹا دو ۔ میں تم دونوں سے اسے کافی ہوجاؤں گا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عمر کا قول رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں خاص طور پر جس پر گھوڑے دوڑائے گئے ہوں یہ چار حصے ہیں۔